بنگلورو،29؍اگست(ایس او نیوز) بنگلوروشہرکے کاڈگنڈنہلی (کے جی ہلی)اوردیورجیونہلی(ڈی جے ہلی)میں ہوئے فساداورتشدد کے موقع پرعوامی املاک کابڑے پیمانہ پرنقصان ہواتھا،کئی سواریوں کونذرآتش کیاگیاتھا۔عوامی املاک کونقصان پہنچانے والوں سے ہی نقصان کی بھرپائی کرنے سے متعلق وظیفہ یاب جج کیمپنا کوبطورکلائم کمشنر مقررکیاگیاہے۔
عدالتی کارروائی کے بعد فیصلہ کومحفوظ کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ابھئے سرینواس اوکااوراشوک ایس کنگی پرمشتمل دورکنی آئینی بنچ نے بروزجمعہ کیپمناکوکلائم کمشنرکے طور پرنامزدکردیاہے۔فساداورتشدد میں عوامی املاک اورسواریوں کو کتنانقصان پہنچا؟ ا س کی تخمینہ مالیت کتنی؟ جملہ نقصانات کا اندازہ لگانے کاکام کلائم کمشنرکریں گے۔واقعہ سے متعلق ویڈیوکے ذریعہ گواہوں کے بیان درج کریں گے۔
بعدازاں عدالت کوایک عبوری رپورٹ پیش کرنے کی عدالت نے کلائم کمشنر کوہدایت دی ہے۔دورکنی آئینی بنچ نے حکومت کوہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کلائم کمشنرکیلئے درکاربنیادی سہولتیں،اہلکار اورسواری فراہمی کے ساتھ ہرطرح تعاون کیاجائے۔معلوم رہے کہ کے جی ہلی اورڈی جے ہلی تشدد کے دوران شرپسندعناصرنے سواریوں کوآگ لگا کر خاکسترکردیاتھا۔دوپہیہ،سہ پہیہ سواریوں سمیت پولیس تھانہ،پبلک ٹرانسپورٹ کی سواریوں کوبھی آگ لگائی گئی تھی۔گھروں کے باہر کھڑی کئی گاڑیو ں کے شیشوں کوتوڑدیاتھا۔
اترپردیش کی حکومت نے عوامی املاک نقصان پہنچانے والوں سے نقصان کی بھرپائی کے لیے ایک خصوصی قانون تشکیل دیاتھا۔سپریم کورٹ نے اس حکومت کے اس اقدام کی تائیدکی تھی۔اترپردیش کے بعداب ریاستی حکومت نے بھی بنگلورمیں ہوئے تشدد سے متعلق جیل خانوں میں بند عوامی املاک کونقصان پہنچانے والے تشددکے ملزمین سے بھرپائی کافیصلہ کیاہے۔
حکومت کی جانب سے کلائم کمشنرکی تقرری پرسوال اٹھاتے ہوئے ہائی کورٹ میں مفادعامہ (پی آئی ایل)داخل کی گئی تھی۔اس میں درج اہم اُمورپربھی عدالت میں زیرسماعت آئے۔ حکومت کی جانب سے کلائم کمشنرکی نامزدگی پر بنگلورشہرکے کمشنرنے حمایت کی ہے۔